9 اشعار

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

Roshni phaili to sab ka rang kaala ho gaya

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

«روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیاکچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا

جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیاسچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا

وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھیتجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا

ہم نے تنہائی کی چادر تان لی اور سو گئےلوگ جب کہنے لگے اٹھو سویرا ہو گیا

ڈوبتا سورج ہوں میں وہ میرا سایا دیکھ کرسوچتا یہ ہے قد اس کا مجھ سے لمبا ہو گیا

چند لمحے تھے جو برسوں بعد تک بیتے نہیںکچھ برس وہ بھی تھے جن کا ایک لمحہ ہو گیا

جب زباں کھولی تو سب کو نیند سی آنے لگیچپ ہوئے تو یوں لگا ہر شخص بہرا ہو گیا

ساتھ اس کا چھوڑ کر آئے تو یہ عالم رہاہم نے جس چہرے کو دیکھا اس کا چہرہ ہو گیا

اس تعلق کو بھلا آزادؔ میں کیا نام دوںوہ کسی کا ہو کے بھی کچھ اور میرا ہو گیا

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں