9 اشعار

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

baat karni mujhe mushkil kabhi aisi to na thi

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

«بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قراربے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادوکہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی

عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایاتاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی

اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیفسخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی

پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوںآتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی

نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دلوہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی

چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکنجیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی

کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بارخو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی

— بہادرشاہ ظفر