9 اشعار

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

bhari hai dil mein jo hasrat kahoon to kis se kahoon

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

«بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوںسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں

جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوںترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں

نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدردمیں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں

دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوںکہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں

کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشتپھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں

رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیںترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں

جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی باتتجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں

نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوالنہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں

کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میںظفرؔ میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں

— بہادرشاہ ظفر