7 اشعار

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی

Galiyan tankhwah thehri hai agar bat jaegi

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی

«گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گیعاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی

روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گااس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی

رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دلجوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی

ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مریپھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی

دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھبعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی

کر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریکیہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی

مونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھناجوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی

— بہادرشاہ ظفر