9 اشعار

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے

Dekho insaan khaak ka putla bana kya cheez hai

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے

«دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہےبولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے

روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہےاس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے

یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیںایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے

جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنساوہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے

ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیبخضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے

مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاجعشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے

دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگارپوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے

خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گلہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے

جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے

— بہادرشاہ ظفر