9 اشعار

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی

Hai dil ko jo yaad aai falak-peer kisi ki

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی

«ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کیآنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی

گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھیپر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی

ہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پاجب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی

یارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤکچھ پیش نہیں جانے کی تقریر کسی کی

نازاں نہ ہو منعم کہ جہاں تیرا محل ہےہووے گی یہاں پہلے بھی تعمیر کسی کی

میری گرہ دل نہ کھلی ہے نہ کھلے گیجب تک نہ کھلے زلف گرہ گیر کسی کی

آتا بھی اگر ہے تو وہ پھر جائے ہے الٹاجس وقت الٹ جائے ہے تقدیر کسی کی

اس ابرو و مژگاں سے ظفرؔ تیز زیادہخنجر نہ کسی کا ہے نہ شمشیر کسی کی

جو دل سے ادھر جائے نظر دل ہو گرفتارمجرم ہو کوئی اور ہو تقصیر کسی کی

— بہادرشاہ ظفر