9 اشعار

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

Hum ne teri khatir se dil-e-zaar bhi chhora

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

«ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑاتو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا

کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریباناے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا

دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشقتسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا

گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نےکی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا

اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نےمفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا

ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھاتم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا

کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نےصدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا

پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کواس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا

کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرارمدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا

— بہادرشاہ ظفر