5 اشعار

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

Hijr ke haath se ab khaak pade jeene mein

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

«ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میںدرد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں

خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کویہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں

دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوںجلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں

اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرےہیں بھرے لال و گہر عشق کے گنجینے میں

شکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیالکچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں

— بہادرشاہ ظفر