7 اشعار

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

Hawa mein phirte ho kya hirs aur hawa ke liye

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

«ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیےغرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے

گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میںہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے

جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کویہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے

وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماباک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے

تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حالجو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے

طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتےیہ دردمند محبت تری دوا کے لیے

جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدینتو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے

— بہادرشاہ ظفر