7 اشعار

نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

Na dāyam gham hai ne ishrat kabhī yūñ hai kabhī vūñ hai

نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

«نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہےتبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک ہوں گاہےلیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

ابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمننہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

جو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوںیہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

کسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاریغرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

کوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکلچمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

ظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائمجو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

— بہادرشاہ ظفر