7 اشعار

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

Na darveshoñ kā khirqa chāhiye na tāj-e-shāhāna

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

«نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانامجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا

کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیںہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا

غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میںدئے جا ساقیٔ پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا

نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میںبہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا

کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوںطریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا

یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پراسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا

ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہےکرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا

— بہادرشاہ ظفر