9 اشعار

نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا

Na us kā bhed yārī se na ayyārī se hāth āyā

نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا

«نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیاخدا آگاہ ہے دل کی خبرداری سے ہاتھ آیا

نہ ہوں جن کے ٹھکانے ہوش وہ منزل کو کیا پہنچےکہ رستہ ہاتھ آیا جس کی ہشیاری سے ہاتھ آیا

ہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتناکوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا

اگرچہ مال دنیا ہاتھ بھی آیا حریصوں کےتو دیکھا ہم نے کس کس ذلت و خواری سے ہاتھ آیا

نہ کر ظالم دل آزاری جو یہ دل منظور ہے لیناکسی کا دل جو ہاتھ آیا تو دل داری سے ہاتھ آیا

اگرچہ خاکساری کیمیا کا سہل نسخہ ہےولیکن ہاتھ آیا جس کے دشواری سے ہاتھ آیا

ہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحتنہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا

کوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھاپر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا

ظفرؔ جو دو جہاں میں گوہر مقصود تھا اپناجناب فخر دیں کی وہ مددگاری سے ہاتھ آیا

— بہادرشاہ ظفر