9 اشعار

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

Nibah baat ka is heela-gar se kuchh na hua

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

«نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہواادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا

جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خطلکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا

ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پرہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا

بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتااگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا

جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھےبس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا

رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کیاس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا

اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نےحصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا

شب وصال میں بھی میری جان کو آرامعزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا

نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھاوہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا

— بہادرشاہ ظفر