9 اشعار

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

Paan kha kar surma ki tehreer phir khenchi to kya

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا

«پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیاجب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا

اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیںتو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا

گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچاے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا

کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سےاے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا

دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشقلاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا

کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثرتو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا

چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنادیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا

کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیارتو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا

کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقلاور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا

— بہادرشاہ ظفر