7 اشعار

شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف

Shane ki har zubaan se sune koi laaf-e-zulf

شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف

«شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلفچیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف

جس طرح سے کہ کعبہ پہ ہے پوشش سیاہاس طرح اس صنم کے ہے رخ پر غلاف زلف

برہم ہے اس قدر جو مرے دل سے زلف یارشامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف

مطلب نہ کفر و دیں سے نہ دیر و حرم سے کامکرتا ہے دل طواف عذار و طواف زلف

ناف غزال چیں ہے کہ ہے نافۂ تتارکیونکر کہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف

آپس میں آج دست و گریباں ہے روز و شباے مہروش زری کا نہیں موئے باف زلف

کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کوکہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف

— بہادرشاہ ظفر