7 اشعار

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

Waan iraada aaj us qaatil ke dil mein aur hai

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

«واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہےاور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے

وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آجورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے

ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنیدل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے

پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل رباباندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے

ہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کییہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے

گو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہمآج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے

یوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔاس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے

— بہادرشاہ ظفر