11 اشعار

دیمک

Deemak

دیمک

«دیمک» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

خون کا ہر اک قطرہ جیسےدیمک بن کر دوڑے

ناکامی کے زہر کو چاٹےدرد میں گھلتا جائے

چھلنی جسم سے رستے لیکنارمانوں کے رنگ

جن کا روپ میں آنا مشکلاور جب بھی الفاظ میں ڈھل کر

کاغذ پر بہہ نکلےخاکے تصویروں کے بنائے

آنکھیں تارے ہاتھ شعاعیںدل ایک صدف ہے جس میں

کتنے سچے موتی بھرے ہوئے ہیںباہر آتے ہی یہ موتی

شبنم بن کر اڑ جاتے ہیںجیسے اپنا کھویا سورج ڈھونڈ رہے ہیں

میں اپنے انجام سے پہلےشاید اک دن

ان خاکوں میں رنگ بھروں گایہ بھی تو ممکن ہے لیکن

میں بھی اک خاکہ بن جاؤںجس کو دیمک چاٹ رہی ہو

— باقر مہدی