11 اشعار

خوف

Khauf

خوف

«خوف» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

سائے سائے جالے جالے خاموشی خاموشی سیٹوٹی ٹوٹی الجھی الجھی بے خوابی بے خوابی سی

حرفوں سے بچتا بچتا معنی سے چھپتا چھپتارنگوں میں ڈوبا ڈوبا سانسوں میں ابھرا ابھرا

ذروں میں چمکا چمکا لہروں میں سہما سہماتیز ہوا کے جھونکوں میں رک رک کر اڑتا اڑتا

نشتر زہر محبت درد خون کے اک اک قطرے میںرہ رہ کر چبھتا چبھتا

کیا ہے یہکون ہے یہ

آنسو ریت بنے کیسے پلکوں پہ چمکے کیسےہر منزل پر لہراتا ہے کب سے زرد پھریرا کون

ٹوٹے آدرشوں کے شیشے گنتا ہے وہ بیٹھا کونمیرے ہر اظہار میں پنہاں بے معنی خاموش کیوں

میرے تھک کے سو جانے میں خوابوں میں بے چینی کیوںمیرے بام سے اڑ جاتا ہے قطرہ قطرہ نشہ کیوں

یہ روز و شب سارے لمحے ننھے ننھے ٹکڑے ٹکڑےرگ رگ میں پیوست ہوئے خون بنے درد بنے

اک مدت سے صبح ازل سےمیری روح میں کون چھپا ہے

کون چھپا ہے

— باقر مہدی