11 اشعار

جہنم

Jahannum

جہنم

«جہنم» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

جب پاس نہیں کچھ بھی میرےخواہش مقصد آدرش کے ٹوٹے آئینے

پھر گردش روز و شب کا مجھے احساس ہے کیوںکیا غم مجھ کو جب صبح کی کوئی فکر نہیں

اور شام الم سے ڈر بھی نہیںوہ پاؤں میں اب چکر بھی نہیں

سائے کی کوئی حاجت بھی نہیںاب موت کا کھٹکا کوئی خلش موہوم تمنا کا ارماں

کچھ بھی تو نہیںپھر کیسے میں کہتا ہوں مجھے

موسم کے بدلتے رنگوں کا احساس ہے بسایسا تو نہیں میں مر بھی چکا

اور کوئی نہیں ہے نوحہ کناں(ماضی کی روایت، ،حال کا غم فردا کی امیدیں کیا ہوں گی)

جب ان سے نہیں میں وابستہپھر کیا ہے کوئی راز تو ہے

اک آگ سی جلتی رہتی ہے رگ رگ میں مریاک بے معنی سا درد مرا احساس جگاتا رہتا ہے

اس طرح کہ میں سب کچھ یونہی محسوس کروں اور کچھ نہ کہوںجب تک یہ جہنم روشن ہے

میں زندہ ہوں

— باقر مہدی