10 اشعار

لہروں کا آتش فشاں

Lehron ka Aatish Fishan

لہروں کا آتش فشاں

«لہروں کا آتش فشاں» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

یہ آنسو بے سبب بنتے نہیں ہیںانہیں تم صرف پانی کہہ کے مت ٹالو

بہت سے حادثے آئے مگر یہ سونامی لہریںہر آفت سے آگے ہیں ہمارے دل ہلا کر

آنسوؤں کا سیل بن کر بہہ رہا ہےہزاروں بے سہارا لوگ

یوں بھی مرنے والے تھےمگر زیر زمیں پانی سمندر کی یہ لہریں

جسم کے ٹکڑے کو مٹی بنا کر کھا گئی ہیںجسے سب زلزلے کا نام دیتے ہیں

آخر سمندر کی یہ لہریں زمیں کو چاک کر کے آئیں ہیںاس طرح مٹی کو مٹی سے ملاتی ہیں

ہمارے اشک بہنے دوکہ غم ہر گام رگ رگ میں سمایا ہے

ہمیں غم تھا ہماری ابتدا غم سے ہوئی تھیاور انتہا بھی غم ہے

مگر یہ آنسوؤں کا سیل بہنے دوکہ شاید کچھ سکوں مل جائے

میرے دیدۂ بینا کو آخری لمحے

— باقر مہدی