13 اشعار

نئی جستجو کا المیہ

Nayi Justuju Ka Almiya

نئی جستجو کا المیہ

«نئی جستجو کا المیہ» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

تخیل کی اونچی اڑانوں سے آگےجہاں خواب ٹوٹے پڑے ہیں

مری آرزو تھی وہاں جا کے دیکھوںرفیقوں رقیبوں کے چہرے

مری ہر بغاوت پہ ہنستے رہے ہیںمیں رفتار کے دائرے توڑ کر

خدا سے پرے جا چکا ہوںفرشتوں کی پہلی بغاوت کا منظر مجھے یاد آیا

کچھ ایسا لگا جیسے آدم کا سارا المیہنئی جستجو کے سہارے ہمیشہ رہے گا

ہر اک بار باغی نئے بن کےوہ داستاں پھر سے دہرا رہے ہیں

خود ابلیس حیران ہےخیر و شر کی نئی کش مکش میں الجھ کر ہر اک بار یہ سوچتا ہے

''خدایا! میں مظلوم ہوںمیری فطرت میں جو سرکشی تھی وہ آدم سے تھی

تیرا بندہ ہوں عاجز ہوں تو رحم کردیکھ ایک مدت سے آدم کے بیٹے

تجھے اور مجھے بھول کرصرف بے نام بے سود سے جستجو کے سہارے بڑھے جا رہے ہیں

انہیں تیری رحمت تیرا قہر کچھ بھی ڈراتا نہیںمجھے آج پہلی دفعہ ڈر لگا ہے

کہیں یہ مجھے اور تجھے قید کر کےصرف تخلیق کے جرم میں وہ سزا دیں

جس کو لاکھوں برس سے یہ سہتے چلے آ رہے ہیں!''

— باقر مہدی