زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
کلام: باقی صدیقی
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہےرونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیںزیست کو زیست نما کیا دیکھیں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہےرونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیںزیست کو زیست نما کیا دیکھیں
رنگ دل رنگ نظر یاد آیاتیرے جلووں کا اثر یاد آیا
وہ نظر بن گئی پیغام حیاتحلقۂ شام و سحر یاد آیا