8 اشعار

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا

Chhota sa ek kaam hamara nahin kiya

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا

«چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیاباصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا

رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرورایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا

دو چار بار دیکھ لو خود جا کے اس کے پاسکچھ بے سبب تو ہم نے کنارا نہیں کیا

کہتے رہے ہو تم اسے ہمدرد و غم گساراور اس نے بات کرنا گوارا نہیں کیا

گر تھیں نگاہ میں مری کوتاہیاں تو ٹھیکاغیار نے تو کوئی اشارہ نہیں کیا

حیراں ہوں لوگ کہتے ہیں کیوں اس کو چارہ گرجس نے کسی مریض کو اچھا نہیں کیا

دن رات ہم کو قرض چکانے کی فکر ہےگو اس نے واپسی کا تقاضا نہیں کیا

ہوتے جو آج ان کی نگاہوں میں سرفرازہم نے تو کوئی کام بھی ایسا نہیں کیا

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں