باصر سلطان کاظمی کا کلام
- 01 رہ عشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی Rah-e-ishq mein kab diya kuchh sunaai dikhaai آواز میں دستیاب
- 02 دشمنی جس کی دوستی جیسی Dushmani jis ki dosti jaisi آواز میں دستیاب
- 03 کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ Kaha unhon ne ke ho tum to kaam se farigh آواز میں دستیاب
- 04 جنگل میں مور Jangal mein mor آواز میں دستیاب
- 05 گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے Go ke pichhe bahut qatar mein the آواز میں دستیاب
- 06 چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا Chhota sa ek kaam hamara nahin kiya آواز میں دستیاب
- 07 بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے Bahr-e dil mein yeh jo kaifiyat hejani hai آواز میں دستیاب
- 08 کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے Kya zindagi hai apni magar zindagi to hai آواز میں دستیاب
- 09 ایک دروازہ کیا کھلا باہر Ek darwaza kya khula bahar آواز میں دستیاب
- 10 دور سایا سا ہے کیا پھولوں میں Duur saya sa hai kya phoolon mein آواز میں دستیاب
- 11 ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے Hum kamyab ho ke bhi nakaam rah gaye آواز میں دستیاب
- 12 ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی Hamare saath zamana kya kare kuchh bhi آواز میں دستیاب
- 13 کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا Kaisi mehfil mein aye dil tujh ko laya hoon dekh zara آواز میں دستیاب
- 14 کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب Karte na hum jo ahl-e watan apna ghar kharab آواز میں دستیاب
- 15 بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی Beete hue dinon ki fiza yaad aa gayi آواز میں دستیاب
- 16 ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے Hote hain jo sab ke woh kisi ke nahin hote آواز میں دستیاب
- 17 اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح Itne kadwe daur mein shereen-maqali kis tarah آواز میں دستیاب
- 18 کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا Kahan siyasat-e-aghyar ne halak kiya آواز میں دستیاب
- 19 کتنا کام کریں گے Kitna kaam karenge آواز میں دستیاب
- 20 تھا جو کبھی اک شوق فضول Tha jo kabhi ek shauq-e-fazool آواز میں دستیاب
- 21 کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف Karna hai gar mujhe shikar la koi jaal mukhtalif آواز میں دستیاب
- 22 بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات Baithe rahenge woh to hamesha daba ke baat آواز میں دستیاب
- 23 بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف Baadal hai aur phool khile hain sabhi taraf آواز میں دستیاب
- 24 دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے Dam-e-subh aandhiyon ne jinhein rakh diya masal ke آواز میں دستیاب
- 25 موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا Moujib-e-rang-e-chaman khoon-e-shaheedaan nikla آواز میں دستیاب
- 26 خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات Khat mein kya kya likhoon yaad aati hai har baat pe baat آواز میں دستیاب
- 27 کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں Kitni hi be-zarar sahi teri kharabiyan آواز میں دستیاب
- 28 دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو Dil laga lete hain ahl-e-dil watan koi bhi ho آواز میں دستیاب
- 29 کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے Kahan milega woh mujh se agar yahan bhi rahe آواز میں دستیاب
- 30 یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے Yeh nahin hai ke tujhe main ne pukara kam hai آواز میں دستیاب
- 31 ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ Hazaar kehta raha main ke yaar ek minute آواز میں دستیاب