16 اشعار

جنگل میں مور

Jangal mein mor

جنگل میں مور

«جنگل میں مور» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 57 سیکنڈ ہے۔

ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنیخوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے

اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہےجب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں

ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرارکاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی

کاش مخلوق خدا ہو تیرے فن سے فیضیابمور بولا اے مری ہم رقص میری ہم نوا

تو نہیں واقف کہ میں گھوما پھرا ہوں کس قدرکتنے جنگل میں نے جھانکے کتنی دیکھیں بستیاں

ان گنت آنکھوں نے دیکھا میرا فن میرا ہنرداد لینا دیکھنے والوں سے تھا مقصد مرا

اس طرح گویا انہیں تسخیر کر لیتا تھا میںدیکھتا جب ان کی آنکھوں میں ستائش کی چمک

بس اسی لمحے پروں کو میرے لگ جاتے تھے پرپھر ہوا یوں ایک دن دوران رقص

غالباً شیشے کا ٹکڑا یا کوئی کنکر چبھارقص تو کیا چلنے پھرنے سے ہوا معذور میں

رفتہ رفتہ ہو گیا اہل جہاں سے دور میںبعد مدت ایک دن پہنچا جو میں پنڈال میں

دیکھتا کیا ہوں کہ اک طاؤس خوش قد خوش جمالمجھ سے بہتر اور کتنا مختلف

کر رہا تھا اپنے فن سے اہل مجلس کو نہالدیر تک دیکھا کیا میں اس کو اوروں کی طرح

یوں لگا جیسے وہ تھا میری جگہ میری طرحکاروان زندگی رکتا نہیں

وقت کا دریا کبھی رکتا نہیںآج میں کل کوئی پرسوں کوئی اور

اپنا اپنا وقت اپنا اپنا دوررقص کرتا ہوں اگر میں اب تو بس اپنے لیے

یا فقط تیرے لیے تیرے لیے تیرے لیے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں