ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹکیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ
میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹادھر بھی آئی تھی موج بہار ایک منٹ
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹکیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ
میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹادھر بھی آئی تھی موج بہار ایک منٹ
کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلفشاطر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئےکر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھیذرا ملال نہ ہو تو نہ گر کہے کچھ بھی
وہ اور وقت تھے جب انتخاب ممکن تھاکریں گے اہل ہنر کام اب ملے کچھ بھی
بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہےچاند سی شکل تری موجب طغیانی ہے
اب تو تجھ پر بھی کسی اور کا ہوتا ہے گماںکس قدر دیر میں صورت تیری پہچانی ہے
چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیاباصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا
رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرورایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا
پھر ہمیں جستجو ہوئی اُس کیدشمنی جس کی دوستی جیسی
سامنے اُس کی سَرد مہری کےکیا ہمارے مزاج کی گرمی