6 اشعار

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

Kaha unhon ne ke ho tum to kaam se farigh

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

«کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ظفر نقوی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغکہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امورجو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ

تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کامہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ

وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سےکیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ

کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولےمجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ

مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقیکیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں