یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
کلام: باصر سلطان کاظمی
یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہےمیرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نےجان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہےمیرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نےجان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے
اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرحپوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح
حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہےہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح
ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنیخوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے
اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہےجب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں