تھا جو کبھی اک شوق فضول
کلام: باصر سلطان کاظمی
تھا جو کبھی اک شوق فضولاب ہے وہی اپنا معمول
کیسے یاد رہی تجھ کومیری اک چھوٹی سی بھول
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
تھا جو کبھی اک شوق فضولاب ہے وہی اپنا معمول
کیسے یاد رہی تجھ کومیری اک چھوٹی سی بھول
ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغکہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امورجو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ