7 اشعار

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا

Aah asar ho gayi to kya hoga

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا

«آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگابے اثر ہو گئی تو کیا ہوگا

شام غم آ چلے تصور میںاب سحر ہو گئی تو کیا ہوگا

وہ نظر جس کو ہے خبر میریبے خبر ہو گئی تو کیا ہوگا

داستاں عشق کی طویل تو ہےمختصر ہو گئی تو کیا ہوگا

شب نہ کاٹے کٹی تو ہوگا کیااور بسر ہو گئی تو کیا ہوگا

آہ گو دل سے ہم نہیں کرتےکارگر ہو گئی تو کیا ہوگا

روبرو ان کے چپ تو ہوں بہزادؔآنکھ تر ہو گئی تو کیا ہوگا

— بہزاد لکھنوی