11 اشعار

چشم حسیں میں ہے نہ رخ فتنہ گر میں ہے

Chashm-e-haseen mein hai na rukh fitna-gar mein hai

چشم حسیں میں ہے نہ رخ فتنہ گر میں ہے

«چشم حسیں میں ہے نہ رخ فتنہ گر میں ہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

چشم حسیں میں ہے نہ رخ فتنہ گر میں ہےدنیا کا ہر فریب فریب نظر میں ہے

اب کیا خبر کہ دل میں ہے کیا کیا جگر میں ہےاب تو تری نظر کا تماشا نظر میں ہے

ایمان رکھ کے کیا کروں فرسودہ چیز ہےمستی مجھے قبول کہ تیری نظر میں ہے

ناسور درد‌ زخم تپش سوز و اضطرابسامان سو طرح کا دل‌ مختصر میں ہے

حاضر ہے اس کے واسطے جس کو ہو آرزوہاں اک لہو کی بوند مری چشم تر میں ہے

قسمت سے مل گئی ہے یہ بیدارئ حیاتاس عشق کے نثار کہ دنیا نظر میں ہے

مجھ کو نہ دن کو چین نہ شب کو سکوں نصیباک ربط دائمی مری شام و سحر میں ہے

حیرت سے دیکھیے نہ مرے سجدہ ہائے شوقیہ آستاں کچھ اور ہی میری نظر میں ہے

باقی ہیں بعد توبہ بھی رندی کے ولولےدل میں خیال بادہ ہے ساغر نظر میں ہے

اچھی ملی ہے مجھ کو یہ دیوانگئ شوقدنیا کا ہر خیال دل بے خبر میں ہے

دو قطرہ ہائے خوں سر مژگاں ہیں منتظربہزادؔ دو جہاں کا تماشا نظر میں ہے

— بہزاد لکھنوی