7 اشعار

ہونا ہی کیا ضرور تھے یہ دو جہاں ہیں کیوں

Hona hi kya zaroor the ye do jahan hain kyun

ہونا ہی کیا ضرور تھے یہ دو جہاں ہیں کیوں

«ہونا ہی کیا ضرور تھے یہ دو جہاں ہیں کیوں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

ہونا ہی کیا ضرور تھے یہ دو جہاں ہیں کیوںاللہ اک فریب میں کون و مکاں ہیں کیوں

سنتے ہیں ایک درد تو اٹھتا ہے بار باراس کی خبر نہیں ہے کہ آنسو رواں ہیں کیوں

ان بے نیازیوں میں بھی شان نیاز ہےسجدے نہیں پسند تو پھر آستاں ہیں کیوں

جس گلستاں میں روز تڑپتی ہیں بجلیاںیا رب اسی چمن میں یہ پھر آشیاں ہیں کیوں

اس کا ہمیں ملال ہے ہم کیوں بدل گئےاس کا نہیں ملال کہ وہ بد گماں ہیں کیوں

جب دل نہیں رہا تو تمنا کا کام کیاجب کارواں نہیں تو پس کارواں ہیں کیوں

بہزادؔ ان کے ہجر میں گھبرا رہا ہے دلاب کیا کہیں کسی سے کہ بس خانماں ہیں کیوں

— بہزاد لکھنوی