9 اشعار

اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں

Ae dil tujhe khabar hai ke kya kar raha hoon main

اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں

«اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میںجو حق ہے زندگی کا ادا کر رہا ہوں میں

تم ہو جفا نواز جفا کر رہے ہو تممیں ہوں وفا پرست وفا کر رہا ہوں میں

تم سے تو مجھ کو کوئی شکایت نہیں رہیقسمت کی خوبیوں کا گلہ کر رہا ہوں میں

ہاں دیجئے سزا کہ سزاوار عشق ہوںہاں ہاں میں کر رہا ہوں خطا کر رہا ہوں میں

وہ دن گئے کہ نغموں سے ہی کھیلتا تھا دلاب نالہ ہائے ہوش ربا کر رہا ہوں میں

نکلا ہوں جستجو میں غم دل کے ساتھ ساتھرہزن کو آج راہنما کر رہا ہوں میں

اب آپ اپنی شان کرم کو دکھائیےمیری ہی خطا ہے کہ خطا کر رہا ہوں میں

شاید اسی طرح سے ملے کچھ سکون زیستپہلو سے اپنے غم کو جدا کر رہا ہوں میں

بہزادؔ تم بھی دیکھ رہے ہو گواہ ہوکب سے بلند دست دعا کر رہا ہوں میں

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں