8 اشعار

کوئی چشم و نظر سے دور کیوں ہے

Koi chashm-o-nazar se door kyoon hai

کوئی چشم و نظر سے دور کیوں ہے

«کوئی چشم و نظر سے دور کیوں ہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کوئی چشم و نظر سے دور کیوں ہےمحبت اس قدر مجبور کیوں ہے

یہ جلوؤں سے فضا مامور کیوں ہےہر اک ذرہ مثال طور کیوں ہے

اسے بھی بخش دو درد محبتگزارش دل کی نامنظور کیوں ہے

دو عالم پر تھی قدرت اس کو حاصلیہ دل اب اس قدر مجبور کیوں ہے

قریب آ کر ذرا مجھ کو بتاؤکہ منزل عاشقی کی دور کیوں ہے

بہت خود کو کیا ہے عام تو نےہر اک ذرے میں تیرا نور کیوں ہے

مرے دل کو تھی زخموں کی ضرورتمرے پہلو میں یہ ناسور کیوں ہے

مرے دست کرم کا مانگنا دیکھترا دست کرم مجبور کیوں ہے

— بہزاد لکھنوی