10 اشعار

اپنی نئی زمین نیا آسماں رہے

Apni nayi zameen naya aasman rahe

اپنی نئی زمین نیا آسماں رہے

«اپنی نئی زمین نیا آسماں رہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

اپنی نئی زمین نیا آسماں رہےہاں اس جہاں سے دور ہی اپنا جہاں رہے

ہم نے تو اس چمن سے لگایا کبھی نہ دلہم بے نیاز فکر غم آشیاں رہے

مجھ سا چمن پرست چمن کو ملا ہے کباس میں اگر رہے تو مری داستاں رہے

ہر برگ و گل کو خار نظر آ رہے ہیں خارمطلب یہ ہے کہ گل سے دم گلستاں رہے

ہم تم رہیں جہان تمنا و حسن میںاپنے سوا نہ اور کوئی میہماں رہے

ہے نام جس کا عشق خوشی سے ہے دور دوریہ تو جہان غم ہے مسرت کہاں رہے

یہ بھی خیال ہے کہ نہ ہو شکوۂ الماور یہ بھی چاہتے ہو کہ منہ میں زباں رہے

کب تک چھٹے نہ ہاتھ سے دامان حسن و عشقکب تک دل حزیں میں غم دو جہاں رہے

ٹھکرا کے جا رہے ہو جسے تم بہ صد خوشیتم ہی بتاؤ اب وہ تمنا کہاں رہے

اب جستجو میں بھی نہ گئی اپنی بے خودیبہزادؔ ہم چلے تو پس کارواں رہے

— بہزاد لکھنوی