9 اشعار

ہر شے کو مرے دل سے بھلاتے ہوئے آتے

Har shai ko mere dil se bhulaate hue aate

ہر شے کو مرے دل سے بھلاتے ہوئے آتے

«ہر شے کو مرے دل سے بھلاتے ہوئے آتے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہر شے کو مرے دل سے بھلاتے ہوئے آتےآنا تھا تو بے ہوش بناتے ہوئے آتے

مدہوشیوں کو ہوش میں لاتے ہوئے آتےآتے مری دنیا کو جگاتے ہوئے آتے

ہر ذرے کو اک طور بناتے ہوئے آتےیہ ہو نہ سکا جلوے لٹاتے ہوئے آتے

اشکوں پہ گراتے مرے تم برق تبسمپانی میں ذرا آگ لگاتے ہوئے آتے

گر بندہ نوازی ہی تھی تو حسن نظر سےہر چیز کو پر نور بناتے ہوئے آتے

گر بارگہہ عشق میں آنا تھا تو خود کواپنی بھی نگاہوں سے چھپاتے ہوئے آتے

چہرے کو چھپانا ہی جو مقصود تھا ان کانظروں کو نہ بیتاب بناتے ہوئے آتے

دنیا کو تو اک آن میں بے ہوش کیا تھامجھ کو بھی ہر اک چیز بھلاتے ہوئے آتے

خودداریٔ الفت بھی کوئی چیز تھی بہزادؔہر گام پہ کیوں سر کو جھکاتے ہوئے آتے

— بہزاد لکھنوی