9 اشعار

بسر ہم عجب زندگی کر رہے ہیں

Basar hum ajab zindagi kar rahe hain

بسر ہم عجب زندگی کر رہے ہیں

«بسر ہم عجب زندگی کر رہے ہیں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

بسر ہم عجب زندگی کر رہے ہیںکبھی جی رہے ہیں کبھی مر رہے ہیں

یہ نالے یہ آہیں جو ہم بھر رہے ہیںانہیں روشناس ستم کر رہے ہیں

خدا کی قسم بس ہم ہی جانتے ہیںمحبت کی دنیا میں کیونکر رہے ہیں

نہ ہنس کر ہی گزری نہ رو کر ہی ہم سےعجب حال میں زندگی بھر رہے ہیں

تعجب نہ کر غم نہ کھا قلب غمگیںہمیشہ یہی ان کے تیور رہے ہیں

نہ برسیں بھلا کس لئے خوں کے آنسوکہ ممنون دل دیدۂ تر رہے ہیں

کوئی راز پھر آج ہے کھلنے والاوہ پھر میری الفت کا دم بھر رہے ہیں

جفائیں کرو شوق سے تم جفا کیشکایت ہی ہم تم سے کب کر رہے ہیں

شب و روز رو رو کے بہزادؔ گریاںطبیعت کو مانوس غم کر رہے ہیں

— بہزاد لکھنوی