10 اشعار

تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا

Tum se nazar ke saamne aaya na ja saka

تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا

«تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکاشاید نظر کا بار اٹھایا نہ جا سکا

ہم سے ترا تصور رنگیں ترا خیالکیں لاکھ کوششیں پہ بھلایا نہ جا سکا

بزم تجلیات کی وارفتگی نہ پوچھیہ ہوش تھا کہ ہوش میں آیا نہ جا سکا

تھیں جلوہ گر جو آپ کی اس میں تجلیاںدل عشق کی نظر سے گرایا نہ جا سکا

وہ تو ہزار رنگ سے پوچھا کئے مگرہم سے ہی دل کا حال بتایا نہ جا سکا

ناکام ہو گئی مری چشم پر آب بھیشعلہ بھڑک گیا تو بجھایا نہ جا سکا

موجود ہو نگاہ تصور کے سامنےاب تو کہو کہ تم سے بلایا نہ جا سکا

دست گدا نواز کا اس میں ہے کیا قصوردست طلب ہمیں سے بڑھایا نہ جا سکا

اپنی نگاہ سے تو چھپایا تمہیں مگردل کی نظر سے تم کو چھپایا نہ جا سکا

ان کی عطا کی خیر ہو بہزادؔ مبتلاوہ کی عطا کہ جس کو بھلایا جا سکا

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں