9 اشعار

نہ یہ پوچھو کہ کیا یاد آ رہا ہے

Na ye poochho ke kya yaad aa raha hai

نہ یہ پوچھو کہ کیا یاد آ رہا ہے

«نہ یہ پوچھو کہ کیا یاد آ رہا ہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

نہ یہ پوچھو کہ کیا یاد آ رہا ہےمحبت میں خدا یاد آ رہا ہے

خلش سی پھر ہوئی پیدا جگر میںمجھے اک بے وفا یاد آ رہا ہے

حدوں سے بڑھ چلی طوفاں کی تیزیمجھے اب ناخدا یاد آ رہا ہے

دل بے مدعا آخر ہوا کیاغم بے مدعا یاد آ رہا ہے

بھرے تھے جس میں کچھ نغمات خاموشوہ ساز بے صدا یاد آ رہا ہے

دئے ہیں اس قدر دھوکے کسی نےفریب مدعا یاد آ رہا ہے

محبت ہاں محبت کا مجھے پھروہ وقت ابتدا یاد آ رہا ہے

چمکتے ہیں یہ کیوں آنکھوں میں آنسوکوئی بھولا ہوا یاد آ رہا ہے

وہ محروم جفا بہزادؔ وہ دلوہ محروم جفا یاد آ رہا ہے

— بہزاد لکھنوی