9 اشعار

ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے

Hai khirad mandi yahi ba-hosh deevana rahe

ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے

«ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہےہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگانہ رہے

کفر سے یہ التجائیں کر رہا ہوں بار بارجاؤں تو کعبہ مگر رخ سوئے مے خانہ رہے

شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے او مست غمحسن محفل ہے جبھی جب تک کہ پروانہ رہے

زخم دل اے زخم دل ناسور کیوں بنتا نہیںلطف تو جب ہے کہ افسانے میں افسانہ رہے

ہم کو واعظ کا بھی دل رکھنا ہے ساقی کا بھی دلہم تو توبہ کر کے بھی پابند میخانہ رہے

آخرش کب تک رہیں گی حسن کی نادانیاںحسن سے پوچھو کہ کب تک عشق دیوانہ رہے

فیض راہ عشق ہے یا فیض جذب عشق ہےہم تو منزل پا کے بھی منزل سے بیگانہ رہے

مے کدہ میں ہم دعائیں کر رہے ہیں بار باراس طرف بھی چشم مست پیر میخانہ رہے

آج تو ساقی سے یہ بہزادؔ نے باندھا ہے عہدلب پہ توبہ ہو مگر ہاتھوں میں پیمانہ رہے

— بہزاد لکھنوی