9 اشعار

دل میرا تیرا تابع فرماں ہے کیا کروں

Dil mera tera taba-e-farmaan hai kya karoon

دل میرا تیرا تابع فرماں ہے کیا کروں

«دل میرا تیرا تابع فرماں ہے کیا کروں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

دل میرا تیرا تابع فرماں ہے کیا کروںاب تیرا کفر ہی مرا ایماں ہے کیا کروں

باہوش ہوں مگر مرا دامن ہے چاک چاکعالم یہ دیکھ دیکھ کے حیراں ہے کیا کروں

ہر طرح کا سکون ہے ہر طرح کا ہے کیفپھر بھی یہ میرا قلب پریشاں ہے کیا کروں

کہتا نہیں ہوں اور زمانہ ہے با خبرچہرے سے دل کا حال نمایاں ہے کیا کروں

دامن کروں نہ چاک یہ ممکن تو ہے مگرمضطر ہر ایک تار گریباں ہے کیا کروں

سادہ سا اک ورق ہوں کتاب حیات کاحسرت سے اب نہ اب کوئی ارماں ہے کیا کروں

ہر سمت پا رہا ہوں وہی رنگ دل فریبہاتھوں میں کفر کے مرا ایماں ہے کیا کروں

داغوں کا قلب‌ زار سے ممکن تو ہے علاجان کے ہی دم سے دل میں چراغاں ہے کیا کروں

اک بے وفا کے واسطے سے سب کچھ لٹا دیابہزادؔ اب نہ دین نہ ایماں ہے کیا کروں

— بہزاد لکھنوی