10 اشعار

اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا

Ek be-wafa ko dard ka darmaan bana liya

اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا

«اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیاہم نے تو آہ کفر کو ایماں بنا لیا

دل کی خلش پسندیاں ہیں کہ اللہ کی پناہتیر نظر کو جان رگ جاں بنا لیا

مجھ کو خبر نہیں مرے دل کو خبر نہیںکس کی نظر نے بندۂ احساں بنا لیا

محسوس کر کے ہم نے محبت کا ہر المخواب سبک کو خواب پریشاں بنا لیا

دست جنوں کی عقدہ کشائی تو دیکھیےدامن کو بے نیاز گریباں بنا لیا

تسکین دل کی ہم نے بھی پرواہ چھوڑ دیہر موج غم کو حاصل طوفاں بنا لیا

جب ان کا نام آ گیا ہم مضطرب ہوئےآہوں کو اپنی زیست کا عنواں بنا لیا

ہم نے تو اپنے دل میں وہ غم ہو کہ ہو المجو کوئی آ گیا اسے مہماں بنا لیا

آئینہ دیکھنے کی ضرورت نہ تھی کوئیاپنے کو خود ہی آپ نے حیراں بنا لیا

اک بے وفا پہ کر کے تصدق دل و جگربہزادؔ ہم نے خود کو پریشاں بنا لیا

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں