11 اشعار

ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میں

Unko but samjha tha ya unko Khuda samjha tha main

ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میں

«ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میںہاں بتا دے اے جبین شوق کیا سمجھا تھا میں

اللہ اللہ کیا عنایت کر گئی مضراب عشقورنہ ساز زندگی کو بے صدا سمجھا تھا میں

ان سے شکوہ کیوں کروں ان سے شکایت کیا کروںخود بڑی مشکل سے اپنا مدعا سمجھا تھا میں

میری حالت دیکھیے میرا تڑپنا دیکھیےآپ کو اس سے غرض کیا ہے کہ کیا سمجھا تھا میں

کھل گیا یہ راز ان آنکھوں کے اشک ناز سےکیفیات حسن کو غم سے جدا سمجھا تھا میں

اے جبین شوق ہاں تجھ کو بڑی زحمت ہوئیآج ہر ذرہ کو ان کا نقش پا سمجھا تھا میں

اک نظر پر منحصر تھی زیست کی کل کائناتہر نظر کو جان جان مدعا سمجھا تھا میں

آ رہا ہے کیوں کسی کا نام ہونٹوں تک مرےاے دل مضطر تجھے صبر آزما سمجھا تھا میں

آپ تو ہر ہر قدم پر ہو رہے ہیں جلوہ گرآپ کو حد نظر سے ماورا سمجھا تھا میں

یہ فغاں یہ شور یہ نالے یہ شیون تھے فضولکیا بتاتی تھی محبت اور کیا سمجھا تھا میں

اس نگاہ ناز نے بہزادؔ مجھ کو کھو دیاجس نگاہ ناز کو اپنی دوا سمجھا تھا میں

— بہزاد لکھنوی