9 اشعار

فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی

Faryaad hai ab lab par jab ashk-fishani thi

فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی

«فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھی» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

فریاد ہے اب لب پر جب اشک فشانی تھییہ اور کہانی ہے وہ اور کہانی تھی

اب دل میں رہا کیا ہے جز حسرت و ناکامیوہ نیش کہاں باقی خود جس کی نشانی تھی

جب درد سا تھا دل میں اب درد ہی خود دل ہےہاں اب جو حقیقت ہے پہلے یہ کہانی تھی

پر آب سی رہتی تھیں پہلے یہ مری آنکھیںہاں ہاں اسی دریا میں اشکوں کی روانی تھی

اے چشم حقیقت میں دنیا کو یہ سمجھا دےباقی بھی وہی نکلی جو چیز کہ فانی تھی

بلبل نے تو افسانہ اپنا ہی سنایا تھاگلشن کی کہانی تو پھولوں کی زبانی تھی

یوں اشک بہائے تھے یوں کیں نہ تھیں فریادیںاک بات چھپانی تھی اک بات بتانی تھی

سادہ نظر آتا ہے اب تو ورق دامناب تک مرے دامن پر آنکھوں کی نشانی تھی

بہزادؔ کا وہ عالم بھی خوب ہی عالم تھابہزادؔ کی نظروں میں ہر چیز جوانی تھی

— بہزاد لکھنوی