9 اشعار

جو وہ بزم میں بے نقاب آ گیا

Jo woh bazm mein be-naqaab aa gaya

جو وہ بزم میں بے نقاب آ گیا

«جو وہ بزم میں بے نقاب آ گیا» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

جو وہ بزم میں بے نقاب آ گیاہر اک چیز پر اک شباب آ گیا

جبھی میری بے چینیاں بڑھ گئیںکہ وہ وجہ صد اضطراب آ گیا

ستم بھی کئے اس نے بے انتہامجھے لطف بھی بے حساب آ گیا

گئی کیا خزاں کیا یہ آئی بہارمری جان پر اک عذاب آ گیا

ابھی کرنے پایا نہ تھا میں سوالکہ ان کے لبوں پر جواب آ گیا

نہ وہ سن سکے اور نہ میں کہہ سکانظر کو نظر سے حجاب آ گیا

ادھر اس نے ڈالی نظر میں نظرادھر ہم کو لطف شراب آ گیا

سمجھ میں نہ آیا یہ انداز نومجھے دیکھ کر کیوں حجاب آ گیا

مجھے دیکھتے ہی وہ فرما اٹھےوہ بہزادؔ خانہ خراب آ گیا

— بہزاد لکھنوی