9 اشعار

منزل کی جستجو تھی پہ منزل نہ مل سکی

Manzil ki justaju thi pe manzil na mil saki

منزل کی جستجو تھی پہ منزل نہ مل سکی

«منزل کی جستجو تھی پہ منزل نہ مل سکی» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

منزل کی جستجو تھی پہ منزل نہ مل سکیہم کو کسی طرح تری محفل نہ مل سکی

ہم نے ہر ایک گام کو منزل بنا لیاآسانیاں تو مل گئیں مشکل نہ مل سکی

غم بھی مسرتوں کی طرح سے ہے عارضیمایوس غم کو لذت کامل نہ مل سکی

دیکھیں ہزار چشم تمنا نے محفلیںجس کی تلاش تھی وہی محفل نہ مل سکی

رہرو بھی میرے ساتھ ہی گم گشتہ ہو گئےاک بار مل کے پھر کبھی منزل نہ مل سکی

جب سے ہوا ہے دست طلب غم سے بے نیازدست گدا کو لذت سائل نہ مل سکی

اک بار آ کے پھر کبھی طوفاں نہ آ سکاکشتئ دل کو دورئ ساحل نہ مل سکی

ہے ماورائے عقل و خرد انتہائے غممنزل تو مل گئی حد منزل نہ مل سکی

بہزادؔ اس کی زیست کوئی زیست ہی نہیںجس کو عطائے مرشد کامل نہ مل سکی

— بہزاد لکھنوی