9 اشعار

خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہیں خدا نہ ملا

Khuda ko dhoondh raha tha kahin Khuda na mila

خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہیں خدا نہ ملا

«خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہیں خدا نہ ملا» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہیں خدا نہ ملازہے نصیب کہ بندے کو مدعا نہ ملا

نگاہ شوق میں بے نوریوں کا رنگ بڑھانگاہ شوق کو جب کوئی دوسرا نہ ملا

ہم اپنی بے خودیٔ شوق پر نثار رہےخودی کو ڈھونڈھ لیا جب ہمیں خدا نہ ملا

تمہاری بزم میں لب کھول کر ہوا خاموشوہ بد نصیب جسے کوئی آسرا نہ ملا

ہر ایک ذرہ میں میں خود تو آ رہا تھا نظرعجیب بات تمہارا کہیں پتہ نہ ملا

بس اک سکون ہی ہم کو نہ مل سکا تا عمروگرنہ تیرے تصدق میں ہم کو کیا نہ ملا

تری نگاہ محبت نواز ہی کی قسمکہ آج تک تو ہمیں تجھ سا دوسرا نہ ملا

ترا جمال فضاؤں میں منتشر تھا مگرنگاہ شوق کو پھر بھی ترا پتہ نہ ملا

ہزار ٹھوکریں کھائیں ہزار سو بہزادؔجہان حسن میں کوئی بھی با وفا نہ ملا

— بہزاد لکھنوی