9 اشعار

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں

Khushi mehsoos karta hoon na gham mehsoos karta hoon

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں

«خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوںمگر ہاں دل میں کچھ کچھ زیر و بم محسوس کرتا ہوں

محبت کی یہ نیرنگی بھی دنیا سے نرالی ہےالم کوئی نہیں لیکن الم محسوس کرتا ہوں

مری نظروں میں اب باقی نہیں ہے ذوق کفر و دیںمیں اک مرکز پہ اب دیر و حرم محسوس کرتا ہوں

جو لطف زندگانی مل رہا تھا گھٹتا جاتا ہےخلش جو دل میں رہتی تھی وہ کم محسوس کرتا ہوں

تمہارے ذکر پر کب منحصر ہے دل کی بیتابیکسی کا ذکر ہو میں چشم نم محسوس کرتا ہوں

کبھی پاتا ہوں دل میں ایک حشر درد بیتابیکبھی میں اپنے دل میں درد و غم محسوس کرتا ہوں

زباں پر میری شکوہ آ نہیں سکتا زمانے کاکہ ہر عالم کو میں ان کا کرم محسوس کرتا ہوں

یہ دل میں ہے جو گھبراہٹ یہ آنکھوں میں ہے جو آنسواس احساں کو بھی بالائے کرم محسوس کرتا ہوں

خوشی کی مجھ کو اب بہزاد کچھ حاجت نہیں باقیکہ غم کو بھی میں اب ان کا کرم محسوس کرتا ہوں

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں