8 اشعار

لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی

Lab pe hai faryad ashkon ki rawani ho chuki

لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی

«لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکیاک کہانی چھڑ رہی ہے اک کہانی ہو چکی

مہر کے پردے میں پوری دل ستانی ہو چکیبندہ پرور رحم کیجیے مہربانی ہو چکی

میرا دل تاکا گیا جور و جفا کے واسطےجب کہ پورے رنگ پر ان کی جوانی ہو چکی

جائیے بھی کیوں مجھے جھوٹی تشفی دیجیےآپ سے اور میرے دل کی ترجمانی ہو چکی

آ گیا اے سننے والے اب مجھے پاس وفااب بیاں روداد دل میری زبانی ہو چکی

آخری آنسو مری چشم الم سے گر چکاسننے والو ختم اب میری کہانی ہو چکی

ہم بھی تنگ آ ہی گئے آخر نیاز و ناز سےہاں خوشا قسمت کہ ان کی مہربانی ہو چکی

سننے والے صورت تصویر بیٹھے ہیں تمامحضرت بہزادؔ بس جادو بیانی ہو چکی

— بہزاد لکھنوی