7 اشعار

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں

Kya yeh bhi main batla doon tu kaun hai main kya hoon

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں

«کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوںتو جان تماشا ہے میں محو تماشا ہوں

تو باعث ہستی ہے میں حاصل ہستی ہوںتو خالق الفت ہے اور میں ترا بندہ ہوں

جب تک نہ ملا تھا تو اے فتنۂ دو عالمجب درد سے غافل تھا اب درد کی دنیا ہوں

کچھ فرق نہیں تجھ میں اور مجھ میں کوئی لیکنتو اور کسی کا ہے بے درد میں تیرا ہوں

مدت ہوئی کھو بیٹھا سرمایۂ تسکیں میںاب تو تری فرقت میں دن رات تڑپتا ہوں

ارمان نہیں کوئی گو دل میں مرے لیکناللہ ری مجبوری مجبور تمنا ہوں

بہزادؔ حزیں مجھ پر اک کیف سا طاری ہےاب یہ مرا عالم ہے ہنستا ہوں نہ روتا ہوں

— بہزاد لکھنوی